پاکستان اور افغانستان کے مابین حالیہ مذاکرات کی ناکامی کےبعد کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، اور اسی کشیدگی کےباعث گزشتہ دو ہفتوں سے زائد وقت پاک افغان بارڈر بند ہیں جس کی وجہ سے افغان مہاجرین خیبر کے مختلف مقامات پر پھنس کر رہ گئے۔
موجودہ صورتحال میں جہاں دونوں ممالک کی سرحدی گزرگاہ بند ہونے کے باعث ملک بھر سے افغانستان جانیوالے مہاجرین خیبر کے مختلف مقامات پر پھنس گئے ہیں، اب وہ نہ واپس جا سکتے ہیں اور نہ بارڈر کے اس پار جا سکتے ہیں۔
دوستی طرف ٹرکوں میں موجود خواتین بوڑھے بچے شدید مشکلات کا شکار ہیں، رات کو سردی کے موسم میں شدت کے باعث واپس جانیوالے افغان مہاجریں بیمار پڑ چکے ہیں، غیر آباد علاقوں میں کھڑے ٹرکوں میں موجود مہاجرین کو کھانے پینے اور دیگر مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اس موقع پر مخیر اداروں کی جانب سے کبھی کبھار خوراک تقسیم کی جاتی ہے تاہم افغان مہاجرین کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے وطن کی واپسی کے لئے طورخم بارڈر پر جانے کی اجازت دی جائے۔
یاد رہے چمن بارڈر کو افغان مہاجرین کی واپسی کے لئے لمحہ بہ لمحہ کھولا جاتا ہے تاہم طورخم بارڈر بدستور بند ہے ۔
