شمالی وزیرستان کی تحصیل شیوہ میں فتنہ الخوارج کے خلاف عوامی ردِعمل شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں قبائلی مشران، نوجوانوں، قابل خیل یوتھ اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد سڑکوں پر نکل آئے۔
علاقے میں ہونے والے احتجاج کے دوران مظاہرین نے امن دشمن عناصر کے خلاف کھل کر اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق 14 جنوری 2026 کو فتنہ الخوارج نے دریائے کرم پر قائم ایک اہم رابطہ پل کو دھماکے کے ذریعے تباہ کر دیا تھا، جو شیوہ اور گرد و نواح کے علاقوں کے لیے واحد زمینی راستہ تھا۔
یہ پل نہ صرف روزمرہ آمدورفت بلکہ تجارتی سرگرمیوں، تعلیمی اداروں تک رسائی اور مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتا تھا۔ پل کی تباہی کے بعد علاقے میں بے چینی پھیل گئی اور عوام میں شدید اشتعال پایا گیا۔
واقعے کے بعد مقامی مشران اور نوجوانوں نے ہنگامی مشاورت کی، جس میں اس کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی اور 17 جنوری بروز ہفتہ بھرپور عوامی احتجاج کا فیصلہ کیا گیا۔
احتجاجی مظاہرے میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ فتنہ الخوارج اس طرح کی تخریبی سرگرمیوں کے ذریعے علاقے کے امن، ترقی اور عوامی سہولتوں کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے، تاہم عوام ان عزائم کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے اور تباہ شدہ پل کی جلد از جلد تعمیر نو کو یقینی بنایا جائے۔ اہلِ علاقہ نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ وہ امن کے قیام کے لیے ریاستی اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھیں گے اور فتنہ الخوارج کے خلاف متحد رہیں گے۔
