باڑہ ( نمائندہ خیبر پوائنٹ ) واقعات کے مطابق پیندی چینہ میں وادی تیراہ جانے والی مین شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے احتجاجاً بند کر دی گئی۔ احتجاج کی قیادت وادی تیراہ کے متاثرین کی 24 رکنی کمیٹی کے رکن ملک کمال الدین کر رہے ہیں۔متاثرین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے ان کے ساتھ کیے گئے تحریری وعدوں پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔مظاہرین کے مطابق ان کے پانچ بنیادی مطالبات تاحال حل طلب ہیں، اور اگر یہ مطالبات تین گھنٹوں کے اندر پورے نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔احتجاج کرنے والوں نے بتایا کہ 24 رکنی کمیٹی کے ساتھ تحریری معاہدے کیے گئے تھے، تاہم ان معاہدوں کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین کے مطابق پہلا اور بنیادی مسئلہ مستقل پتے (Permanent Address) کا ہے، جس کی وجہ سے ہزاروں متاثرہ خاندان رجسٹریشن سے محروم ہیں۔دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ 24 رکنی کمیٹی کی تصدیق کے بغیر تحصیلدار ٹوکن پر دستخط نہ کرے، جبکہ نادرا بھی کمیٹی کی تصدیق کے بعد ہی متاثرہ خاندانوں کی بائیومیٹرک تصدیق کرے۔ اس کے علاوہ رجسٹریشن کیمپ میں خوراک کی فراہمی، میڈیکل کیمپ اور خواتین کے لیے علیحدہ سٹاپ کی سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔احتجاج میں بازار زخہ خیل کے عوام نے بھی شرکت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک زخہ خیل کے متاثرین کا اندراج نہیں کیا جاتا، وہ کسی اور کو بھی اندراج کی اجازت نہیں دیں گے۔
دوسری جانب رکن صوبائی اسمبلی عبدالغنی آفریدی نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت کو باقاعدہ تحریری مراسلہ ارسال کیا ہے، جس میں نادرا کو خط لکھ کر درپیش مسائل کے حل کی استدعا کی گئی ہے۔باخبر ذرائع کے مطابق پیندی چینہ میں آئے روز سڑک بندش اور زخہ خیل قوم کی من مانیوں کے باعث وادی تیراہ کے متاثرین کی رجسٹریشن پوائنٹ قمبر آباد باڑہ منتقل کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے
