باڑہ ( نمائندہ خیبر پوائنٹ)ادی تیراہ میں ممکنہ آپریشن کے باعث نقل مکانی کرنے والے تیراہ کے متاثرین کو مختلف راستوں اور رجسٹریشن پوائنٹس پر شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ جگہ جگہ پابندیوں اور رکاوٹوں کے باعث انہیں گھنٹوں روکا جا رہا ہے جس سے خواتین، بچے اور بزرگ شدید اذیت میں مبتلا ہیں۔
متاثرین کے لیے تین مختلف مقامات پر پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔ تیراہ کے مرکزی علاقے لرباغ میں گاڑیوں کے کرایہ کی مد میں ٹوکن جاری کیے جا رہے ہیں تاکہ متاثرین کو مفت ٹرانسپورٹ فراہم کی جا سکے، جبکہ پیندی چینہ میں متاثرین کی رجسٹریشن اور باڑہ منڈی کس میں گاڑیوں کو کرایہ ادا کیا جا رہا ہے۔
باڑہ سیاسی اتحاد کے ایک وفد نے تیراہ متاثرین کے لیے قائم پوائنٹس کا دورہ کیا، جہاں راستوں میں متاثرین سے ملاقات کی گئی اور ان کے مسائل سنے گئے۔ وفد نے لرباغ میں 24 رکنی کمیٹی کے اراکین سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر متاثرین اور کمیٹی ممبران نے شکایت کی کہ تیراہ کے مقامی افراد تاحال اپنے گھروں میں محصور ہیں، جبکہ پشاور اور باڑہ سے آئے ہوئے افراد اصل متاثرین کے حقوق پر قبضہ کر رہے ہیں، جس کے باعث تیراہ کے بچے، خواتین اور بزرگ کھلے آسمان تلے راتیں گزارنے پر مجبور ہیں۔
مولانا حضرات خان ، اکبر آفریدی اور حاجی اطلس ذخہ خیل نے مطالبہ کیا کہ راستوں کو کلیئر کرنے کے لیے خوانی کنڈو کے راستے سے خالی گاڑیوں کو آمد و رفت کی اجازت دی جائے تاکہ ٹریفک کا دباؤ کم ہو اور متاثرین کو سڑکوں پر رات گزارنے سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچے بھوکے پیاسے رہ جاتے ہیں اور کوئی سہولت میسر نہیں، جبکہ دوتوئی یا باغ مرکز پر گاڑیوں کا کرایہ دوبارہ بحال کیا جائے۔
دوسری جانب ذخہ خیل قبیلے نے پیندی چینہ رجسٹریشن مرکز بند کر دیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ تیراہ میں ذخہ خیل اور آدم خیل قبائل بھی متاثر ہوئے ہیں، تاہم ان کی رجسٹریشن اور واپسی کا کوئی بندوبست نہیں کیا جا رہا۔ اس صورتحال پر ایم پی اے و ڈیڈک چیئرمین عبدالغنی آفریدی، ڈپٹی کمشنر خیبر بلال راؤ، اے ڈی سی، ڈی پی او خیبر، باڑہ سیاسی اتحاد کے صدر ہاشم آفریدی، مراد ساقی آفریدی اور شیر شاہ آفریدی نے ذخہ خیل مشران سے مذاکرات کیے، جس کے بعد رجسٹریشن کا عمل دوبارہ شروع کر دیا گیا۔
ایم پی اے عبدالغنی آفریدی نے کہا کہ چیف سیکرٹری کی جانب سے وفاق کو خط ارسال کر دیا گیا ہے، جس میں نادرا کے ذریعے ذخہ خیل اور آدم خیل قبائل کو جلد شامل کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ ان قبائل کے شناختی کارڈز پر لنڈی کوتل اور کوہاٹ کے پتے درج ہونے کی وجہ سے رجسٹریشن اور واپسی میں رکاوٹ پیش آ رہی تھی، جس کے باعث انہوں نے احتجاج کرتے ہوئے رجسٹریشن کا عمل معطل کیا تھا۔ فی الحال صرف باڑہ تحصیل سے تعلق رکھنے والے متاثرین کی رجسٹریشن جاری ہے۔
ادھر باغ مرکز میں شدید سردی کے باعث ایک اور معصوم بچہ جان کی بازی ہار گیا، جس کی لاش کڈے سمیت باڑہ منتقل کر دی گئی۔
اس افسوسناک واقعے پر باڑہ سیاسی اتحاد کے صدر ہاشم آفریدی نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرین کو فوری طور پر تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں اور ان کے جائز مطالبات فی الفور تسلیم کیے جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر متاثرین کے مسائل حل نہ کیے گئے تو پشاور میں غیر معینہ مدت تک احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔
