خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم لیوی میں پانچ روپے اضافے کے فیصلے پر سخت تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت بار بار ایسے اقدامات کر رہی ہے جن سے عوام کو ریلیف ملنے کے امکانات خود ہی ختم ہو جاتے ہیں، جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں متوقع پانچ روپے کمی بھی نافذ نہ ہو سکی۔
مزمل اسلم کے مطابق گیس کے سرکلر ڈیٹ میں کمی کا عمل خاموشی سے مکمل کر لیا گیا ہے، حالانکہ ملک کی صرف 27 فیصد آبادی کو گیس پائپ لائن کی سہولت حاصل ہے، مگر اس کا مالی بوجھ پیٹرول کی قیمتوں کے ذریعے پوری قوم پر ڈال دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ گیس سرکلر ڈیٹ دراصل مسلم لیگ (ن) کے 2015 میں کیے گئے ایل این جی معاہدوں کا نتیجہ ہے، اور موجودہ حکومت ان معاہدوں سے نکلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت قطر اور ای این آئی جیسی ایل این جی سپلائر کمپنیوں سے 2027 تک 45 کارگو معطل کرنے جا رہی ہے، جس سے عالمی منڈی میں نقصان ہوگا۔
مزمل اسلم کے مطابق اس نقصان کی تلافی پانچ روپے فی لیٹر اضافی ٹیکس اور لیوی کی صورت میں عوام سے کی جائے گی۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے اس وژن کو تو سراہا جا سکتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ موجودہ فیصلے براہِ راست عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈال رہے ہیں۔
