
پشاور ( نامہ نگار ) ٹیکس بک بورڈ خیبرپختونخوا کی بہترین حکمت عملی صوبائی خزانے کو کروڑوں روپے کی بچت ہو گئی۔ کتابوں کی چھپائی آی بڈنگ کے ذریعے کرنے سے جہاں شفافیت یقینی ہوئی تو وہی کروڑوں روپے کی بچت بھی ممکن ہوسکی ہے۔ سرکاری سکولوں کے طلبہ کو مفت کتابیں دینے کے ساتھ ساتھ مارکیٹ کو دی جانے والی کتابوں کی چھپائی پر رواں سال گزشتہ سال کے مقابلے میں کم بجٹ خرچ کیا گیا۔ مہنگائی کا تناسب بڑھنے کے باوجود پچھلے سال کے مقابلے میں رواں سال کئی گناہ کم قیمت پر پرنٹنگ کرانا ایک کارنامہ اور ٹیم ورک کا نتیجہ ہے۔ چیئرمین ٹیکس بک بورڈ عابد اللہ کاکاخیل کے مطابق تاریخ میں پہلی بار کتابوں کی اتنی بڑی تعداد میں خریداری آی پیڈ سسٹم کے ذریعے کی گئی ہے۔ آی پیڈ سسٹم صوبائی حکومت نے شفافیت لانے کے لیے اختیار کیا ہے۔ الیکٹرونکس پاکستان ایکویزیشن اینڈ ڈیسپوزل سسٹم کے ذریعے ٹینڈر سے لیکر ایوارڈ تک تمام معملات آن لائن ہوتی ہے۔ جس میں انسانی عمل دخل نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں کرپشن اور بد انتظامی کی کوئی گنجائش نہیں رہتی ہے۔ عابد اللہ کے مطابق پورے پاکستان سے ٹھیکہ داروں نے اس بڈنگ میں میں شرکت کرتے ہوئے حصہ لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 3 کروڑ 40 لاکھ سے زائد کتابوں کی خریداری کی جارہی ہے۔ اس کتابوں پر گزشتہ سال 3 ہزار 361 ملین روپے کی لاگت آئی تھی لیکن رواں سال اس پر 2 ہزار 753 ملین روپے خرچ ہوئی ہے ۔ یعنی رواں سال اس پر صرف 2.7 ارب روپے کی لاگت آئی ہے۔ چیئرمین ٹیکس بک بورڈ کے مطابق بورڈ کے تمام ملازمین نے دن رات محنت کی جس کی بدولت قومی خزانے کو فائدہ ہوا ہے۔ ہر سال یہ شکایت تھی کہ ٹھیکہ دار مل کر ایک گروپ بناتی ہے جس سے صوبائی حکومت کو نقصان ہوتی رہی تھی لیکن اس بار ایسا نہیں ہوا یہی وجہ ہے کہ مہنگائی کے باوجود کروڑوں روپے کی کم لاگت پر کتابوں کی چھپائی اور خریداری کی گی۔ ان کے مطابق تمام طلبہ کو بروقت کتابیں فراہم کی جائے گی۔ جس کے لیے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ گوڈ گورننس کی بہتری اور شفافیت لانے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی ضروری ہے۔