پشاور رپورٹ (جنید طورو)
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے منگل کے روز محکمہ داخلہ کا دورہ کیا اور نو قائم شدہ پراونشل انٹیلیجنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسسمنٹ سنٹر (پیفٹیک) کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد عابد مجید بھی موجود تھے۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ نے وزیراعلیٰ کو پیفٹیک کے قیام، اس کے مقاصد اور کام کے طریقہ کار کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا ملک کا پہلا صوبہ ہے جس نے یہ سنٹر قائم کیا ہے۔ پیفٹیک 210 ملین روپے کی لاگت سے صرف دو ماہ کے قلیل عرصے میں مکمل کیا گیا اور یہ وفاقی سطح پر قائم نیشنل انٹیلیجنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسسمنٹ سنٹر (نیفٹیک) سے منسلک ہے۔ یہ جدید نظام ملک میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کے تدارک، انٹیلیجنس شیئرنگ اور تھریٹ اسسمنٹ کے لیے ایک مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ اس کے تحت وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ ایف آئی اے، نادرا، پی ٹی اے، انٹیلیجنس ایجنسیوں سمیت 14 مختلف ادارے یکساں سسٹم میں منسلک ہوں گے۔ صوبے کے 36 اضلاع کی ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹیاں بھی پیفٹیک سے براہ راست جڑی ہوں گی، جس سے رئیل ٹائم انٹیلیجنس شیئرنگ اور دہشت گردی کے خلاف بروقت و مؤثر کارروائی ممکن ہوگی۔ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی سطح پر پیفٹیک کا قیام دہشت گردی کے مؤثر تدارک کے لیے اہم سنگ میل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک قومی ایجنڈا ہے، جس میں حکومت، عوام اور اداروں کو ایک پیج پر ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ سنٹر بروقت انٹیلیجنس فراہم کر کے دہشت گردی کی سرگرمیوں کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔