• Home  
  • خدمت نہیں، آپ کا حق ,آر ٹی ایس ایکٹ 2014 نے نظام کیسے بدلا
- KP

خدمت نہیں، آپ کا حق ,آر ٹی ایس ایکٹ 2014 نے نظام کیسے بدلا

خدمت نہیں، آپ کا حق: آر ٹی ایس ایکٹ 2014 نے نظام کیسے بدلا خیبر پختونخوا میں عوامی خدمات کی فراہمی کو ایک احسان کی بجائے ایک حق کے طور پر تسلیم کرنا گورننس کے نظام میں ایک انقلابی قدم ہے۔ رائٹ ٹو پبلک سروسز ایکٹ 2014 ایک اہم قانون ہے، جس نے ریاست اور […]

WhatsApp Image 2026 05 06 at 11.18.43 AM
WhatsApp Image 2026 05 06 at 11.18.45 AM

خدمت نہیں، آپ کا حق: آر ٹی ایس ایکٹ 2014 نے نظام کیسے بدلا

خیبر پختونخوا میں عوامی خدمات کی فراہمی کو ایک احسان کی بجائے ایک حق کے طور پر تسلیم کرنا گورننس کے نظام میں ایک انقلابی قدم ہے۔ رائٹ ٹو پبلک سروسز ایکٹ 2014 ایک اہم قانون ہے، جس نے ریاست اور شہریوں کے درمیان تعلق کو ازسرِنو متعین کرتے ہوئے شفافیت، جوابدہی اور مؤثر نظامِ خدمات کو فروغ دیا ہے۔

ماضی میں شہریوں کو بنیادی سرکاری خدمات کے حصول میں تاخیر، غیر یقینی صورتحال اور پیچیدہ طریقۂ کار کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جس کے باعث نہ صرف عوام کو مشکلات پیش آتی تھیں بلکہ سرکاری اداروں پر اعتماد بھی متاثر ہوتا تھا۔ اس قانون کے نفاذ کے بعد خدمات کو ایک قانونی حق کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔

اس نظام کے تحت فی الوقت 14 محکمے اور 80 خدمات آر ٹی ایس کمیشن کے دائرۂ اختیار میں شامل ہیں، جبکہ مزید 89 خدمات زیر غور ہیں، جو اس نظام کے بتدریج پھیلاؤ اور بہتری کی عکاسی کرتی ہیں۔ہر نوٹیفائیڈ سروس کے لیے وقت کی واضح حد مقرر کی گئی ہے اور متعلقہ افسران کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے. اگر کسی شہری کو مقررہ وقت میں سروس فراہم نہ کی جائے تو وہ باقاعدہ شکایت درج کرا سکتا ہے، جس کے ازالے کے لیے ایک مؤثر اور منظم نظام موجود ہے۔ اس کے علاوہ کمیشن کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ غفلت برتنے والے افسران پر جرمانہ عائد کرے اور بعض صورتوں میں متاثرہ شہری کو معاوضہ بھی فراہم کرے۔

یہ نظام نہ صرف احتساب کو یقینی بناتا ہے بلکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان فاصلے کو بھی کم کرتا ہے۔ سادہ طریقۂ کار اور آگاہی مہمات کے ذریعے شہریوں کو ان کے حقوق سے روشناس کرایا جا رہا ہے، جس سے گورننس کا نظام مزید مؤثر اور عوام دوست بنتا جا رہا ہے۔

ضلعی سطح پر اس قانون کے مؤثر نفاذ کے لیے فعال قیادت نہایت اہمیت کی حامل ہے۔

اس حوالے سے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر پشاور، تاشفین اسرار، جنہوں نے جنوری 2026 میں اپنے عہدے کا چارج سنبھالا، ایک متحرک، باصلاحیت اور عوام دوست افسر کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن کے ہیڈکوارٹر کی رہنمائی میں عوامی مفاد کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔

انہوں نے سرکاری اداروں میں بروقت سروس ڈیلیوری اور گڈ گورننس کو اپنی اولین ترجیح بنایا ہے۔ عوامی آگاہی کے لیے وہ باقاعدگی سے صحافیوں، بار ایسوسی ایشنز، سول سوسائٹی اور کمیونٹی گروپس کے ساتھ سیشنز منعقد کرتے ہیں، جبکہ دیہی علاقوں کے دورے بھی ان کی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔ ریڈیو کے ذریعے آگاہی مہم بھی ان کی کوششوں کا اہم جزو ہے۔

مزید برآں، انہوں نے سہ ماہی اجلاس، سرکاری میٹنگز اور ضلعی اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس منعقد کیے، جن میں لائن ڈیپارٹمنٹس کو قانون پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور سب ڈویژنل افسران کے لیے استعدادِ کار بڑھانے کے سیشنز بھی منعقد کیے، تاکہ رائٹ ٹو سروسز فریم ورک کے بارے میں ان کی معلومات کو مؤثر اور تازہ بنایا جا سکے۔

ان کوششوں کے نتیجے میں نوٹیفائیڈ سروسز کو سوشل میڈیا، بینرز اور سرکاری ویب سائٹس پر نمایاں کیا گیا، جس سے عوام کو معلومات تک آسان رسائی حاصل ہوئی۔ متعدد کامیاب کیسز ان کی محنت اور مؤثر قیادت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

تاشفین اسرار ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ، تجربہ کار اور قابل افسر ہیں، جو مختلف اضلاع میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ عہدہ ایک عارضی ذمہ داری ہے، جبکہ اصل مقصد انسانیت کی خدمت ہے۔ عوام کی خدمت اور ان کے حقوق کی فراہمی کو وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا بنیادی مقصد سمجھتے ہیں۔

رائٹ ٹو پبلک سروسز ایکٹ صرف ایک قانون نہیں بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان ایک سماجی معاہدہ ہے، جو شہریوں کے وقار کو یقینی بناتا ہے اور اداروں کو جوابدہ بناتا ہے۔ اس کی کامیابی کا انحصار عوامی آگاہی اور فعال شرکت پر ہے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your trusted source for the latest news and information from across Pakistan, covering all major categories including politics, business, sports, and current affairs.

Email Us: info@khyberpoint.com

Contact: +92 336 9101079

Copyright © 2025 Khyber Point, All rights reserved.