پشاور ہائی کورٹ نے سیکرٹری خیبرپختونخوا اسمبلی کی تقرری برقرار رکھنے کا حکم دے دیا
پشاور: پشاور ہائی کورٹ نے سابق قانونی مشیر اسمبلی علی عظیم آفریدی کی جانب سے دائر کردہ رِٹ پٹیشن مسترد کرتے ہوئے سیکرٹری صوبائی اسمبلی خیبرپختونخوا سید وقار شاہ کی تقرری اور ترقی کو قانونی قرار دے دیا۔
عدالتِ عالیہ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ درخواست گزار سیکرٹری اسمبلی کے خلاف عائد کیے گئے الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہے۔ فیصلے کے مطابق تقرری، اپ گریڈیشن اور ترقی کے تمام مراحل مروجہ قوانین اور قواعد و ضوابط کے عین مطابق اور مجاز اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں مکمل کیے گئے، جبکہ کسی قسم کی بدنیتی یا بے ضابطگی ثابت نہیں ہو سکی۔
عدالت نے واضح کیا کہ محض الزامات کی بنیاد پر کسی تقرری کو کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا اور درخواست میں اٹھائے گئے اعتراضات، بشمول اختیارات کے مبینہ غلط استعمال اور غیر قانونی تقرری کے الزامات، کسی ٹھوس قانونی یا دستاویزی شواہد سے محروم ہیں۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ درخواست ذاتی نوعیت کے اختلافات پر مبنی معلوم ہوتی ہے اور اسے عوامی مفاد کا معاملہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے اس امر کا بھی نوٹس لیا کہ درخواست گزار ماضی میں بھی سیکرٹری سید وقار شاہ کے خلاف متعدد مقدمات دائر کر چکے ہیں، جس سے یہ معاملہ ذاتی رنجش کا پہلو رکھتا ہے۔
فاضل عدالت نے قرار دیا کہ درخواست میرٹ سے عاری اور ناقابلِ سماعت ہے، لہٰذا اسے خارج کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سید وقار شاہ کی گریڈ 20 سے گریڈ 21 میں ترقی بھی برقرار رکھی گئی۔
دریں اثنا، ترجمان خیبرپختونخوا اسمبلی نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی سیکرٹریٹ میں تمام تقرریاں اور ترقیاں آئین، قانون اور مروجہ قواعد کے مطابق عمل میں لائی گئی ہیں اور ادارہ آئندہ بھی شفافیت، میرٹ اور قانون کی بالادستی کے اصولوں پر کاربند رہے گا۔
